Follow us

Monday, 21 March 2016

kisi ko ManHoos Kehna Kaisa By Mufti Muhammad Akmal Qadri

کسی کو منہوس کہنا کیسا خصوص عورتوں کو جانیے مفتی محمد اکمل قادری کی زبانی








Monday, 15 February 2016

Bari Giyarvi sharif by Maulana Arshad Naimi in Mangla, Pakistan

Tuesday, 5 January 2016

Scene At the Day of Judgment When Hazrat Muhammad ﷺ Intercession His Ummat in urdu

★امت کی شفاعت★

intercession of Hazrat Muhammad ﷺ
Ahle Sunnah

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
’’قیامت کے دن میں اپنے رب سے )شفاعت کی( اجازت چاہوں گا ،مجھے اجازت ملے گی میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھا ئو کہو سنا جائے گا ،مانگو دیا جائے گا ،شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔
میں عرض کروں گا اے میرے رب...
میری امت میری امت...
حکم ہو گا جائو جس کے دل میں ایک جو کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو…
میں جائو ں گا اور ایسا کروں گا
پھر لوٹ کر آئوں گا پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا پھر میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھا ئو کہو سنا جائے گا ،مانگو دیا جائے گا ، شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔
میں عرض کروں گا
اے میرے رب میری امت میری امت...
حکم ہو گا جائو جس کے دل میں ایک ذرہ یا رائی کے برابر ایمان ہے اسے نکال لو میں جائو ں گا اور ایسا کروں گا...
پھر لوٹ کر آئوں گا پھر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا۔میں سجدے میں گر جائوں گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھا ئو کہو سنا جائے گا ،مانگو دیا جائے گا ،شفاعت کرو قبول کی جائے گی ۔میں عرض کروں گا..
اے میرے رب میری امت میری امت ...
حکم ہو گا جائو جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم ایمان ہے اسے نکال لو میں جائو ں گا اور ایسا کروں گا۔۔
پھر لوٹ کر آئوں گا‘
اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کروں گا اور کہوں گا اے میرے رب مجھے ان لوگوں کی اجازت دے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو
اللہ تعالیٰ فرمائے گا قسم ہے میری عزت و جلال کی اور عظمت و کبریائی کی کہ میں دوزخ سے اس کو نکال دوں گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو ۔
(صحیح بخاری :
۷۵۱۰،صحیح مسلم:۱۹۳)

یاالله ھم کو نیک بنا اور نبیﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنا ۔۔ 
آمین
گناہ گاروں میں آ آ کے شامل پارسا ھونگے ۔۔ شفیعِ روزِ محشرﷺ جب دامانِ رحمت کو پھیلائیں گے
 اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبدِکَ وَرَسُولِکَ وَعَلَی المُومِنِینَ وَالمُومِنَاتِ وَعَلَی المُسلِمِینَ وَالمُسلِمَاتِ 


Wednesday, 30 December 2015

Holy Prophet Muhammad ﷺ Character Needs and our Neglect and Twisted Judgment


سیرت رسول اکرم ﷺ کی ضرورت اور ہماری غفلت و کج فہمی
Hazrat Muhammad ﷺ

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے انسانیت کے لئے ہدایت کا آخری سرچشمہ بنا کر بھیجا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور بعثت ایک نئے دور کا آغاز اور تاریخ کی ایک نئی جہت کا تعین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم تاریخ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اور بعد کے زمانوں کا تقابل کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد انسانیت کلیتاً ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔ ایک ایسا دور جس میں شعور، آگہی، تہذیب، کلچر اور اعلیٰ انسانی اقدار کے فروغ، قیام اور استحکام کے وہ نظائر ملتے ہیں جن کا نہ صرف آپ کی آمد سے قبل وجود نہ تھا بلکہ اُن کا تصور بھی مفقود تھا۔ یہ سب ختمِ نبوت کا وہ ازلی اور ابدی فیضان تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے ذریعے عالم انسانیت میں جاری و ساری ہوا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے رہنمائی اور اخذ فیض کے جو مناہج بطور امت ہمیں اپنانے چاہیے تھے وہ اپنائے نہ جا سکے۔ ملتِ اسلامیہ جب ایک ہزار سال تک دُنیا بھر میں مقتدر رہنے کے بعد زوال کا شکار ہونا شروع ہوئی تو جہاں زندگی کے دیگر شعبے زوال اور پستی کاشکار ہوئے وہاں دین کے مختلف شعبوں خصوصاً سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق اور فہم کے حوالے سے بھی زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ سیرت کے ساتھ تعلق کے باب میں زوال کے اثرات پچھلی دو تین صدیوں میں سامنے آئے۔ ان میں نمایاں ترین پہلو اُمت مسلمہ کا قلبی اور عملی طور پر سیرت سے ہٹ جانا اور فکری سطح پر سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی فہم سے عاری ہونا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ملتِ اسلامیہ کی اپنی انفرادی، اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی زندگی میں سیرت کا فیضان کما حقہ جاری نہ رہا بلکہ عالمی سطح پر اُمت اجابت تک بھی سیرت اور اِسلام کا پیغام کما حقہ نہ پہنچایا جا سکا۔
اِسلام کی تعلیمات اور سیرت کے ساتھ عملی اور زندہ تعلق کے کٹ جانے سے ملتِ اِسلامیہ کی ہئیت اجتماعی پر درج ذیل اثرات مرتب ہوئے :
ملتِ اِسلامیہ کے عقائد اوہام میں بدل گئے اور اعمال مجرد رسموں میں ڈھل گئے جس کی وجہ سے ان کی زندگی میں عقائد اور اعمال کی تاثیر ختم ہو گئی۔
عالمِ اِسلام کے زوال پر معاشرے میں مذہبی اور روحانی اقدار بتدریج زوال کا شکار ہوتی چلی گئیں۔
اس زوال پذیری کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم معاشرے میں ایمانی حقائق اور روحانی اقدار کی جگہ مادہ پرستی اور مادی فکر نے لے لی۔
مذہب سماجی زندگی سے کلیتاً کٹ گیا اور دُنیا کی زندگی کی بجائے صرف آخرت کی زندگی کا مسئلہ ہو کر رہ گیا۔ لہٰذا اعمال کی انجام دہی کا مقصد دُنیا کی زندگی کی ہمہ گیر اصلاح کے بجائے محض آخرت میں ثواب اور جنت کا حصول رہ گیا۔
ایمان، عقیدہ اور اسلام کے بنیادی تصورات کے مسخ ہو جانے کے سبب سے عملی زندگی میں اسلام کے مؤثر ہونے کا تصور دھندلا ہوتا چلا گیا اور نسلِ نو مستقبل کے حوالے سے اسلام کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے سے مایوس ہونے لگی۔
دورِ زوال میں جب ہر طرف باطل کے غلبے کا منظر نظر آنے لگا تو اہلِ اسلام میں اسلام کی حتمی اور قطعی نتیجہ خیزی کا یقین ختم ہو گیا اور وہ باطل کے مقابلے میں اسلام کے دوبارہ احیاء، فروغ اور اس کے غلبے کی بحالی کے بارے میں متشکک و متزلزل ہوتے چلے گئے۔
مسلمانوں کا مستقبل میں اپنے احیاء کی نسبت اعتماد کلیتاً ختم ہو گیا۔
ایمان اور اسلام کے بطور مؤثر عنصر حیات کی تاثیر کم ہو جانے کے سبب سے اسلام کی وحدت کا شیرازہ جغرافیائی، نسلی، لسانی، طبقاتی، گروہی اور فرقہ وارانہ وفاداریوں کا شکار ہو کر منتشر ہو گیا۔
اسلام کے مذہبی، سیاسی، معاشی، ثقافتی اور تعلیمی ادارے جو سرا سر تخلیق اور انقلاب کے آئینہ دار تھے کلیتاً جمود کی لپیٹ میں آ گئے۔
اندریں حالات اہل اسلام، اسلام کے عالمگیر غلبہ و تمکن کی خاطر مثبت انقلابی پیش قدمی کی بجائے اپنی حفاظت اور دفاع کو ہی اصل زندگی اور آخری مطمع نظرتصور کرنے لگے۔
ان تمام خرابیوں کے ازالے کی جدوجہد سے قبل لازم ہے کہ ان خرابیوں کے پیدا ہونے کی بنیاد اوراسباب کا کھوج لگایا جائے۔ ملتِ اسلامیہ کے سیرت سے تعلق کے حوالے سے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مذکورہ بالا خرابیوں کے بنیادی اسباب یہ ہیں :
عالم اسلام میں سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادھورا فہم
غیر اسلامی دنیا میں سیرت کے فہم اور ابلاغ میں درپیش چیلنجز
1۔ عالمِ اِسلام میں سیرۃُ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادھورا فہم
آج عالم اسلام سیرت سے تعلق کے باب میں جن چیلنجز سے دو چار ہے وہ درج ذیل نوعیت کے ہیں :
سیرت کے روحانی وحبی پہلو سے صرف نظر
سیرت کے فیضان اور تاثیر سے زندگی کے اعمال و اقدار کی محرومی
سیرت کے فکری و تعلیماتی پہلو سے اجتماعی زندگی کی لاتعلقی
ان شاء اللہ جلد ان موضوعات پر کچھ تفصیل پیش کی جائی گی


 Author :  Dr. Faiz Ahmad Chishti

Saturday, 26 December 2015

kalam-e-AlaHazrat wo kamal-e-Husn-e-Hazoor hai

Wo Kamaal-e-Husn-e-Huzoor Hay Kay Gumaan-e-Naqs Jahaan Naheen
Yay-hee Phool Khaar Say Duur Hay Yay-hee Sham’a Hai Kay Dhu-aan Naheen

Do Jahan Ki Behtariyan Nahi Ke Amaniye Dilo Jaan Nahi
Kaho Kya Hain Wo Jo Yaha Nahi Magar Ik Nahi Ki Wo Haan Nahi

BaKhuda Khuda Ka Yay-hee Hay Darr Nahin Aur Koi Maffar Maqqar
Joe Wahaan Say Ho Yaheen Aakay Ho Joe Yahaan Naheen Tou Wahan Naheen

Main Nisaar Tere Kalaam Par Mili Yun To Kisi Ko Zabaan Nahi
Wo Sikhan Hai Jisme Sukhan Na Ho wo Bayaan Hain Jiska Bayaan Nahi


Hain Unhi Ke Noor Se Sab Ayaan Hain Unhi Ke Jalwo Me Sab Nihaan
Bane Subha Taabishe Mehar Se Rahe Peshe Mehar Yeh Jaan Nahi


Wahi Noor E Haq Wahi Jille Rab Hain Unhi Se Sab Hain Unhi Ka Sab
Nahi Unki Milk Mein Aasmaan Ki Jameen Nahi Ki Jamaan Nahi


Teyray Aagay Youn Hayn Dabbay Lachay Fu-saha A’rab Kay Barray Barray
Ko-ee Jaanay Muh Mayn Zubaan Naheen Naheen Balkay Jism Mein Jaan Naheen

Wo-hee Noor-e-Haq Wo-hee  Zillay Rub Hai Unhee Say Sub Hai Unhee Ka Sub
Naheen Unkee Milk Meyn Aasmaan Ke Zameen Nahin Ke Zamaan Naheen

Wo-hee Laa Makaan Kay Makeen Huay Sar-e-‘Arsh Takht Nasheen Huay
Wo Nabee Hai Jiss Kay Hain Yay Makaan Wo Khuda Hai Jiss Ka Makaan Naheen

Sar-e-‘Arsh Per Hai Teree Guzar Dil-e-Farsh Per Hai Teree Nazar
Malakoot-o-Mulk Mayn Ko-ee Shay Naheen Wo Tujh Pay A’yaan Naheen

Karoon Teray Naam Pay Jaan Fida Na Buss Aik Jaan Dou Jahaan Fida
Dou Jahaan Say Bhee Naheen Jee Bharaa Karoon Kiya Karoroon Jahaan Naheen

Karoon Madhay Ahle-e-Doel Raza Parray Iss Bala Meyn Meyree Balaa

Meyn Gada Hoon Apnay Kareem Ka Meyra Deen Paara-e-Naan Nahee

Share

Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More